“The bride of the world, too, had once looked upon me with love; for one night, even this courtesan was utterly devoted to me.”
اس دنیا کی دلہن کو کسی وقت ہم پر بھی پیار آیا تھا، اور یہ طوائف بھی کسی رات ہم پر نثار ہوئی تھی۔
اس شعر میں شاعر نے دنیا کو ایک بے وفا بیسوا سے تشبیہ دی ہے، جس کی مہربانی کبھی کسی کے ساتھ ہمیشہ نہیں رہتی۔ لیکن اس تلخ سچائی کے باوجود، وہ ایک میٹھے طنز اور فخر کے ساتھ یاد کرتے ہیں کہ بھلے ہی یہ دنیا ناپائیدار ہے، مگر ایک رات ایسی بھی گزری تھی جب یہ ان پر دل و جان سے نثار تھی۔ یہ شعر مادی کامیابیوں کی بے ثباتی کے ساتھ ساتھ ماضی کے عروج کی ایک پُرکشش داستان سناتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
