“Whoever may be to blame, once their tongue begins to strike, a blow or two inevitably falls upon me too.”
قصور چاہے کسی کا بھی ہو، لیکن جب ان کی زبان کھلتی ہے تو ایک دو وار مجھ پر بھی ضرور ہو جاتے ہیں۔
اس شعر میں بڑی دلنشین شوخی اور محبت بھری بے بسی چھپی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ قصور خواہ کسی کا بھی ہو، مگر جب محبوب جلال میں آ کر بولنے لگتا ہے تو دو چار تیکھے وار لا محالہ ہم پر بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ اس خاص قربت کا اظہار ہے جہاں انسان اپنے پیارے کی بے جا جھنجھلاہٹ اور تیوروں کو بھی اپنا مقدر سمجھ کر مسکرا کر سہہ لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
