بٹھا چکا ہے زمانہ ہمیں بھی مسند پر ہوا کیے ہیں جواہر نثار ہم پر بھی

“The world has seated me too upon the seat of honor; showers of gems and jewels once rained upon me too.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

زمانہ ہمیں بھی کبھی عزت کی مسند پر بٹھا چکا ہے اور ماضی میں ہم پر بھی ہیرے جواہر نچھاور کیے گئے ہیں۔

تشریح

یہ شعر ماضی کے عروج اور عزت کی ایک بے حد باوقار یاد ہے، جہاں شاعر اپنی موجودہ کیفیت پر فریاد کرنے کے بجائے اپنے گزرے ہوئے وقار کا احساس دلاتا ہے۔ وہ زمانے کو نرمی سے یاد دلاتا ہے کہ کبھی وہ بھی اس محفل کا دولہا تھا، اسے بھی قدردانی کی مسند پر بٹھایا گیا تھا اور اس پر بھی محبت اور ستائش کے گوہر نچھاور ہوئے تھے۔ اس پرسکون اندازِ بیان میں جہاں وقت کی بے ثباتی کا ایک ہلکا سا ملال چھپا ہے، وہیں اپنی ذات اور فن پر ایک خاموش فخر بھی جھلکتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.