“Since you have made even the rival a confidant of your secrets, what pride is there for me if your trust was placed in me as well?”
جب آپ نے دشمن کو بھی اپنا رازدار بنا لیا ہے، تو پھر مجھ پر اعتبار کرنے میں میرے لیے فخر کی کیا بات رہ گئی۔
محبت کا سارا فخر اور مان اس بات پر قائم ہوتا ہے کہ انسان اپنے محبوب کی نظر میں یکتا اور سب سے جدا ہو۔ اس شعر میں عاشق کا دل شکستہ لہجہ اور دھیما سا طنز چھپا ہے کہ جب محبوب نے اپنے راز رقیب پر بھی کھول دیے، تو پھر اس کے اعتبار پر ہم کیا فخر کریں۔ جب قربت اور اعتماد کا یہ دائرہ دشمن کے لیے بھی عام ہو جائے، تو اس کی کوئی خاص قدر باقی نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
