بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی گزر چکی ہے یہ فصل بہار ہم پر بھی

“Once, the beloved's grace was abundant upon us too; this season of spring has passed over our lives as well.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

ایک زمانہ تھا جب ہم پر بھی محبوب کا بے حد لطف و کرم رہا ہے؛ خوشیوں اور بہار کا یہ موسم ہماری زندگی پر بھی گزر چکا ہے۔

تشریح

یہ شعر محبت کے گزرے ہوئے خوبصورت ایام کی بڑی دلنشین اور اداس یاد تازہ کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کی عنایات اور قربت کو 'فصلِ بہار' سے تشبیہ دے رہا ہے، جس کی تازگی کبھی اس کی زندگی کا بھی مقدر رہی تھی۔ اس میں کسی شکوے کے بجائے ایک دھیمی سی حسرت اور تسلیم کا احساس ہے کہ ہم نے بھی کبھی چاہت کا سنہرا دور جیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.