غزل
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
یہ غزل عاشق کے ناتمام ارمانوں، محبوب کی نازک بے رخی اور عشق کے پردرد جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں عاشق محبوب کے قدموں کی قربت سے محرومی اور تمناؤں کے نہ نکلنے کا گلہ کرتا ہے، مگر ساتھ ہی اس کی یاد کو عزیز رکھتے ہوئے خود ہی اپنے دل کو سنبھلنے نہیں دیتا۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
आँखें मुझे तलवों से वो मलने नहीं देते
अरमान मिरे दिल के निकलने नहीं देते
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے
وہ مجھے اپنے تلووں سے آنکھیں ملنے نہیں دیتے اور میرے دل کے ارمانوں کو باہر نکلنے نہیں دیتے۔
2
ख़ातिर से तिरी याद को टलने नहीं देते
सच है कि हमीं दिल को सँभलने नहीं देते
خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے
سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے
ہم تمہارے احترام میں تمہاری یاد کو دل سے دور نہیں ہونے دیتے، اور سچ تو یہ ہے کہ ہم خود ہی اپنے دل کو سنبھلنے نہیں دیتے۔
3
किस नाज़ से कहते हैं वो झुँझला के शब-ए-वस्ल
तुम तो हमें करवट भी बदलने नहीं देते
کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے
وصل کی رات محبوب ناز و نخرے کے ساتھ جھنجھلا کر کہتے ہیں کہ تم تو ہمیں کروٹ بھی نہیں بدلنے دیتے۔
4
परवानों ने फ़ानूस को देखा तो ये बोले
क्यूँ हम को जलाते हो कि जलने नहीं देते
پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے
کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے
پروانوں نے جب فانوس کو دیکھا تو کہا کہ تم ہمیں کیوں تڑپاتے ہو جب ہمیں جلنے بھی نہیں دیتے۔
5
हैरान हूँ किस तरह करूँ अर्ज़-ए-तमन्ना
दुश्मन को तो पहलू से वो टलने नहीं देते
حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا
دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے
میں حیران ہوں کہ اپنی دلی خواہش اور تمنا کیسے بیان کروں، کیونکہ وہ اپنے پاس سے رقیب (دشمن) کو ذرا بھی ہٹنے نہیں دیتے۔
6
दिल वो है कि फ़रियाद से लबरेज़ है हर वक़्त
हम वो हैं कि कुछ मुँह से निकलने नहीं देते
دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے
دل ہر وقت فریاد اور درد سے لبریز رہتا ہے، لیکن ہم ایسے ہیں کہ اپنی زبان یا منہ سے کوئی بات باہر نہیں نکلنے دیتے۔
7
गर्मी-ए-मोहब्बत में वो हैं आह से माने'
पंखा नफ़स-ए-सर्द का झलने नहीं देते
گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع
پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے
محبت کی تپش میں محبوب مجھے آہ بھرنے سے روکتا ہے اور ٹھنڈی سانس کا پنکھا بھی نہیں جھلنے دیتا تاکہ کوئی سکون نہ مل سکے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
