دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

“The heart is such, it brims with cries at every hour; yet such am I, I let no whisper escape my lips.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

دل ہر وقت فریاد اور درد سے لبریز رہتا ہے، لیکن ہم ایسے ہیں کہ اپنی زبان یا منہ سے کوئی بات باہر نہیں نکلنے دیتے۔

تشریح

اس شعر میں دل کے اندرونی اضطراب اور ظاہری ضبط و وقار کا بڑا خوبصورت نقشہ کھینچا گیا ہے۔ دل فریاد اور شکووں سے لبریز ایک چھلکتے ہوئے جام کی طرح ہے، مگر خودداری اور محبت کی پاسداری کا عالم یہ ہے کہ زبان پر ایک حرف بھی نہیں آنے دیا جاتا۔ یہ اس خاموش کرب کی تصویر ہے جہاں انسان سینے میں طوفان لیے بھی اپنی انا اور وقار کو مجروح نہیں ہونے دیتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.