پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

“Seeing the glass lantern, the moths cried out: Why torment us with longing, yet never let us burn?”

— اکبر الہ آبادی
معنی

پروانوں نے جب فانوس کو دیکھا تو کہا کہ تم ہمیں کیوں تڑپاتے ہو جب ہمیں جلنے بھی نہیں دیتے۔

تشریح

یہ شعر محبت کی اس اذیت ناک کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب سامنے نظر بھی آ رہا ہو مگر اس تک رسائی ممکن نہ ہو۔ پروانے کی سب سے بڑی تمنا شمع کے وجود میں فنا ہو کر سکون پا لینا ہوتی ہے، لیکن فانوس کا کانچ ایک ایسا حجاب بن جاتا ہے جو اسے تڑپاتا تو ہے مگر راکھ نہیں ہونے دیتا۔ یہ دراصل اس عاشق کا شکوہ ہے جو قربت کی حسرت میں اندر ہی اندر سلگتا رہتا ہے، لیکن وصال کا شرف اسے نصیب نہیں ہوتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.