کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے
“With what coquettish pique they protest on the night of union: 'You do not even let me turn upon my side!'”
— اکبر الہ آبادی
معنی
وصل کی رات محبوب ناز و نخرے کے ساتھ جھنجھلا کر کہتے ہیں کہ تم تو ہمیں کروٹ بھی نہیں بدلنے دیتے۔
تشریح
یہ شعر شبِ وصال کے بے تکلف اور دلکش لمحات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ محبوب کی یہ ہلکی سی جھنجھلاہٹ اور شکوہ دراصل کوئی ناراضگی نہیں، بلکہ ناز و ادا اور لاڈ کا وہ انداز ہے جو قربت کو اور شیریں بنا دیتا ہے۔ کروٹ نہ بدلنے دینے کا گلہ حقیقت میں عاشق کی وارفتگی اور محوِ دید رہنے کی خواہش پر محبت بھری مہر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
