غزل

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ

ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ
ولی دکنی· Ghazal· 7 shers· radif: आहिस्ता-आहिस्ता

یہ غزل محبوب کے حسن و شباب کے بتدریج نکھار اور عشق میں صبر و تحمل کی لطافت کو بیان کرتی ہے، جس کا موازنہ گلشن میں بہار کی دھیمی آمد سے کیا گیا ہے۔ شاعر نے نہایت نفاست سے واضح کیا ہے کہ کس طرح وقت کے ساتھ محبوب کی چنچل اور وحشی آنکھوں کو آہستہ آہستہ رام کیا جاتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
हुआ ज़ाहिर ख़त-ए-रू-ए-निगार आहिस्ता-आहिस्ता कि ज्यूँ गुलशन में आती है बहार आहिस्ता-आहिस्ता
ہوا ظاہر خط روئے نگار آہستہ آہستہ کہ جیوں گلشن میں آتی ہے بہار آہستہ آہستہ
محبوب کے رخسار پر خط اس طرح آہستہ آہستہ ظاہر ہوا، جیسے باغ میں بہار رفتہ رفتہ آتی ہے۔
2
किया हूँ रफ़्ता रफ़्ता राम उस की चश्म-ए-वहशी कूँ कि ज्यूँ आहू कूँ करते हैं शिकार आहिस्ता-आहिस्ता
کیا ہوں رفتہ رفتہ رام اس کی چشم وحشی کوں کہ جیوں آہو کوں کرتے ہیں شکار آہستہ آہستہ
میں نے رفتہ رفتہ اس کی وحشی آنکھوں کو قابو کر لیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے آہستگی سے ہرن کا شکار کیا جاتا ہے۔
3
जो अपने तन कूँ मिस्ल-ए-जूएबार अव्वल किया पानी हुआ उस सर्व-क़द सूँ हम-कनार आहिस्ता-आहिस्ता
جو اپنے تن کوں مثل جوئبار اول کیا پانی ہوا اس سرو قد سوں ہم کنار آہستہ آہستہ
جس نے پہلے اپنے بدن کو بہتی ندی کی طرح پانی بنا دیا، وہ آہستہ آہستہ اس سرو جیسے قد والے محبوب سے بغل گیر ہو گیا۔
4
बरंग-ए-क़तरा-ए-सीमाब मेरे दिल की जुम्बिश सूँ हुआ है दिल सनम का बे-क़रार आहिस्ता-आहिस्ता
برنگ قطرۂ سیماب میرے دل کی جنبش سوں ہوا ہے دل صنم کا بے قرار آہستہ آہستہ
پارے کے قطرے کی مانند میرے دل کی حرکت اور بے چینی کے اثر سے میرے محبوب کا دل بھی رفتہ رفتہ بے قرار ہو گیا ہے۔
5
उसे कहना बजा है इश्क़ के गुलज़ार का बुलबुल जो गुल-रूयाँ में पाया ए'तिबार आहिस्ता-आहिस्ता
اسے کہنا بجا ہے عشق کے گل زار کا بلبل جو گل رویاں میں پایا اعتبار آہستہ آہستہ
اس شخص کو عشق کے چمن کی بلبل کہنا بالکل درست ہے، جس نے رفتہ رفتہ پھول جیسے خوبصورت چہروں کا اعتبار حاصل کر لیا۔
6
मिरा दिल अश्क हो पहुँचा है कूचे में सिरीजन के गया काबे में ये कश्ती-सवार आहिस्ता-आहिस्ता
مرا دل اشک ہو پہنچا ہے کوچے میں سریجن کے گیا کعبے میں یہ کشتی سوار آہستہ آہستہ
میرا دل آنسو بن کر محبوب کی گلی میں پہنچ گیا ہے، گویا کوئی کشتی سوار آہستہ آہستہ کعبے میں داخل ہو گیا ہو۔
7
'वली' मत हासिदाँ की बात सूँ दिल कूँ मुकद्दर कर कि आख़िर दिल सूँ जावेगा ग़ुबार आहिस्ता-आहिस्ता
ولیؔ مت حاسداں کی بات سوں دل کوں مکدر کر کہ آخر دل سوں جاوے گا غبار آہستہ آہستہ
اے ولی، حسد کرنے والوں کی باتوں سے اپنے دل کو اداس یا میلا مت کرو، کیونکہ آخرکار دل سے یہ غبار آہستہ آہستہ دور ہو جائے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.