“Slowly, step by step, I have tamed her wild and startled gaze—just as a deer is stalked and hunted, ever so softly, slow and sure.”
میں نے رفتہ رفتہ اس کی وحشی آنکھوں کو قابو کر لیا ہے، بالکل اسی طرح جیسے آہستگی سے ہرن کا شکار کیا جاتا ہے۔
اس شعر میں محبوب کی چنچل، شرمیلی اور چونکنے والی آنکھوں کا اعتبار جیتنے کا نہایت دلکش منظر پیش کیا گیا ہے۔ عاشق بتاتا ہے کہ جس طرح کسی بدکے ہوئے ہرن کو جلدی بازی کے بغیر، کمال صبر اور نرم روی سے رام کیا جاتا ہے، ویسے ہی اس نے بھی رفتہ رفتہ اپنے محبوب کا دل جیتا ہے۔ یہ شعر محبت کے اس حسن کو نمایاں کرتا ہے جہاں دلوں پر قبضہ زبردستی سے نہیں، بلکہ بے پناہ خلوص اور دھیمے پن سے کیا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
