“The one who first dissolved his being like a flowing stream / Came slowly, softly to embrace that cypress-tall beloved.”
جس نے پہلے اپنے بدن کو بہتی ندی کی طرح پانی بنا دیا، وہ آہستہ آہستہ اس سرو جیسے قد والے محبوب سے بغل گیر ہو گیا۔
ولی دکنی نے اس شعر میں عشق اور سپردگی کا ایک بے حد خوبصورت منظر تراشا ہے۔ جس طرح ندی کا پانی بہتے بہتے کنارے پر کھڑے بلند سرو کے درخت کے قدموں کو لپیٹ میں لے لیتا ہے، عاشق بھی پہلے اپنی خودی اور انا کو پانی کی طرح فنا کرتا ہے۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ سچے وصال کی منزل تبھی ملتی ہے جب انسان عاجزی اور نرمی اختیار کر کے خود کو مٹا دے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
