“Like a drop of quicksilver stirred by my heart's trembling beat, my beloved's heart, too, grew restless—slowly, bit by bit.”
پارے کے قطرے کی مانند میرے دل کی حرکت اور بے چینی کے اثر سے میرے محبوب کا دل بھی رفتہ رفتہ بے قرار ہو گیا ہے۔
شاعر نے سیماب (پارے) کے قطرے کا کیا دلکش استعارہ باندھا ہے، جو ذرا سی جنبش سے بھی تھرتھرانے لگتا ہے۔ عاشق کے دل کے دھڑکنے اور تڑپنے کا اثر بالآخر محبوب تک پہنچ ہی گیا، اور اس کا بے نیاز دل بھی رفتہ رفتہ اسی اضطراب میں مبتلا ہو گیا۔ یہ شعر محبت کے اس دھیمے اور پرتاثیر عمل کو سامنے لاتا ہے جو خاموشی سے محبوب کو بھی اپنی کیفیت میں رنگ لیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
