“O Wali, let not the words of the envious cloud your heart with dismay, / For slowly, surely, the dust of grief shall lift and drift away.”
اے ولی، حسد کرنے والوں کی باتوں سے اپنے دل کو اداس یا میلا مت کرو، کیونکہ آخرکار دل سے یہ غبار آہستہ آہستہ دور ہو جائے گا۔
ولیؔ اس شعر میں گویا اپنے ہی دل کو تھپکی دے کر تسلی دے رہے ہیں کہ جلنے والوں کی زہریلی باتوں سے اپنے دل کے آئینے کو میلا اور مکدر نہ کرو۔ حسد اور طنز کی تلخیاں اس وقتی گرد و غبار کی طرح ہیں جو دل کو بوجھل تو کرتی ہیں مگر ہمیشہ نہیں رہتیں۔ وہ امید دلاتے ہیں کہ ذرا صبر رکھو، وقت کی رفتار کے ساتھ یہ سارا ملال آہستہ آہستہ خود ہی چھٹ جائے گا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
