غزل
کتنا پاگل...
کتنا پاگل...
یہ غزل ایک عاشق کی شدید اور ہمہ گیر دیوانگی کا اظہار کرتی ہے، جو اپنے محبوب کو ہر جگہ دیکھتا ہے۔ شاعر ایک ایسی دنیا تخلیق کرتا ہے جہاں درخت، پھول، پانی اور گونجنے والے بھنورے بھی محبوب کے نام اور موجودگی سے جڑے ہوئے ہیں، جو ایک گہری، تقریباً جنونی عقیدت اور عاشق کی اس محبت میں مکمل جذب ہونے کو اجاگر کرتا ہے۔ محبت کا دریا بہتا ہے، اور شاعر اس کے پانی میں سکون اور اپنی شناخت پاتا ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
પૂછતી નહીં કેટલો પાગલ... કેટલો પાગલ
આભમાં જોને કેટલાં વાદળ... એટલો પાગલ...
مت پوچھو میں کتنا پاگل ہوں، بس دیکھو آسمان میں کتنے بادل ہیں، میں اتنا ہی پاگل ہوں۔
2
ઝાડનું નાનું ગામ વસાવ્યું ને ફૂલને તારું નામ દીધું છે.
ભમરા તને ગુંજ્યા કરેઃ ગુંજવાનું મેં કામ દીધું છે.
میں نے درختوں کا ایک چھوٹا گاؤں بسایا اور پھول کو تمہارا نام دیا ہے۔ بھنورے تمہارے لیے گونجتے رہتے ہیں، گونجنے کا کام میں نے ہی انہیں دیا ہے۔
3
જળને તારું નામ દઈ ઢંઢોળી લેતો.
ખોવાઈ ગયેલા નામને મારા ખોળી લેતો.
میں پانی کو تمہارا نام دے کر ہلاتا، اور اس میں اپنا کھویا ہوا نام تلاش کرتا۔
4
નદી તારા નામની વહે : એ જ નદીનું જળ પીધું છે.
આપણા પ્રેમની : સુખની દુખની વાત કરું છું શબ્દો આગળ.
شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کے نام کی ندی کے پانی سے ہی سیراب ہوا ہے۔ وہ اپنے عشق کے سکھ اور دکھ کی کہانی بیان کر رہا ہے، جو الفاظ سے بھی کہیں گہری ہے۔
5
પૂછતી નહીં કેટલો પાગલ... કેટલો પાગલ...
પ્હાડની ઉપર સૂરજ ઊગ્યો : રાતના ઊગ્યા તારા.
وہ نہیں پوچھتی کہ میں کتنا پاگل ہوں۔ پہاڑ کے اوپر سورج طلوع ہوا اور رات کو تارے نمودار ہوئے۔
6
દિવસ અને રાત તો તારા નામના છે વણજારા.
ધરતીમાંથી નામનાં તારા તરણાં ફૂટે.
اے بنجارے، دن اور رات تیرے نام کے ہیں۔ زمین سے بھی تیرے نام کے تنکے پھوٹتے ہیں۔
7
ઝરણાં તારા નામને ઝીણા લયમાં ઘૂંટે.
સાગર, ખડક, પવન, સડક, ઝૂંપડી, મકાન...સૌને તારું નામ કીધું છે.
جھرنے تمہارے نام کو دھیمی لے میں گنگناتے ہیں۔ ساگر، چٹان، ہوا، سڑک، جھونپڑی، مکان... ان سبھی کو تمہارا نام بتایا گیا ہے۔
8
નામ તો તારું ગીતને માટે સાવ કુંવારો કોરો કાગળ...
પૂછતી નહીં કેટલો પાગલ... કેટલો પાગલ...
گیت کے لیے تمہارا نام ایک بالکل کورا، صاف صفحہ ہے۔ یہ مت پوچھو کہ میں کتنا پاگل ہوں، کتنا پاگل۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
