“She asks not how mad I am... how mad I am...The sun rose over the mountain; at night the stars arose.”
وہ نہیں پوچھتی کہ میں کتنا پاگل ہوں۔ پہاڑ کے اوپر سورج طلوع ہوا اور رات کو تارے نمودار ہوئے۔
یہ شعر اندرونی، اَن کہی کیفیات اور فطرت کے اٹوٹ چکر کے درمیان ایک خوبصورت موازنہ پیش کرتا ہے۔ "میں کتنا پاگل ہوں" کی بار بار کی پکار ایک گہرے، شاید غیر معلوم جذبے کو ظاہر کرتی ہے جس پر توجہ نہیں دی جاتی۔ تاہم، جس طرح سورج ہمیشہ طلوع ہوتا ہے اور رات کو ستارے نکلتے ہیں، اسی طرح اس کی دیوانگی یا عقیدت کی گہری حالت ایک مستقل، فطری سچائی ہے، خواہ 'وہ' پوچھے یا نہ پوچے۔ یہ بظاہر اشارہ کرتا ہے کہ کچھ سچائیاں کائناتی نظام جتنی ہی بنیادی اور مستقل ہوتی ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
