જળને તારું નામ દઈ ઢંઢોળી લેતો.
ખોવાઈ ગયેલા નામને મારા ખોળી લેતો.
“I would stir the water, giving it your name,And seek within it, my own lost name.”
— سریش دلال
معنی
میں پانی کو تمہارا نام دے کر ہلاتا، اور اس میں اپنا کھویا ہوا نام تلاش کرتا۔
تشریح
کیا خوبصورت بات ہے نا؟ شاعر تصور کرتے ہیں کہ وہ پانی کو اپنے محبوب کا نام دے کر ہلائیں گے۔ یہ کیسی گہری علامت ہے کہ محبت ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز میں گھل مل جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اپنے محبوب کے نام کو پکارنا ہی اپنے آپ میں ایک رسم ہے۔ اور اس عمل میں، وہ اپنے کھوئے ہوئے نام، اپنی پہچان کو ڈھونڈنے کی امید کرتے ہیں، گویا محبوب کی یاد ہی انہیں اپنی روح سے پھر سے جوڑ سکتی ہو۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
