“A small village of trees I built, and to the flower, your name I gave.The bees for you perpetually hum: to hum, I gave them their very aim.”
میں نے درختوں کا ایک چھوٹا گاؤں بسایا اور پھول کو تمہارا نام دیا ہے۔ بھنورے تمہارے لیے گونجتے رہتے ہیں، گونجنے کا کام میں نے ہی انہیں دیا ہے۔
یہ شعر محبوب کی والہانہ عقیدت کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے، جہاں فطرت بھی محبوب کے لیے ہی ڈھالی گئی ہے۔ شاعر درختوں کا ایک چھوٹا سا گاؤں بساتا ہے اور پیار سے پھول کو محبوب کا نام دے دیتا ہے، جس سے وہ اس کی خوبصورتی اور موجودگی کی سیدھی علامت بن جاتا ہے۔ سب سے دلکش پہلو یہ ہے کہ بھنورے بھی، اس پھول کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور مسلسل گنگناتے رہتے ہیں، گویا شاعر نے انہیں محبوب کی تعریف میں گیت گانے کا ہی واحد مقصد دیا ہو۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عاشق کے لیے تو ساری دنیا ہی اس کے محبوب کے گرد گھومتی اور اس کی مدح سرائی کرتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
