“Day and night, they bear your name, O wanderer.From the earth, your name's blades of grass sprout forth.”
اے بنجارے، دن اور رات تیرے نام کے ہیں۔ زمین سے بھی تیرے نام کے تنکے پھوٹتے ہیں۔
یہ شعر ایک بنجارے کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جس کی ہستی وجود کے تانے بانے میں گہرائی سے بُنی ہوئی ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ اس کا 'نام' — اس کی پہچان، اس کی روح، اس کا مکمل وجود — اتنا وسیع ہے کہ یہ دن رات کے گزرنے کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ زمین سے اس کے نام کے گھاس کے تنکے پھوٹنے کا تصور خاص طور پر اثر انگیز ہے۔ یہ فطرت کے ساتھ ایک عاجزانہ مگر بنیادی تعلق کو ظاہر کرتا ہے، جہاں اس کی میراث عظیم یادگاریں نہیں بلکہ گھاس کے ہر تنکے میں پائی جانے والی پرسکون، مستقل اور زندگی بخش موجودگی ہے، جو ہمیشہ نئی ہوتی ہے اور دنیا میں گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
