غزل
پانی طبیب دے ہے ہمیں کیا بجھا ہوا
پانی طبیب دے ہے ہمیں کیا بجھا ہوا
Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI
نغمہ سنیں
1
पानी तबीब दे है हमें क्या बुझा हुआ
है दिल ही ज़िंदगी से हमारा बुझा हुआ
پانی طبیب دے ہے ہمیں کیا بجھا ہوا
ہے دل ہی زندگی سے ہمارا بجھا ہوا
طبیب ہمیں کیسا بجھا ہوا پانی دیتا ہے؛ دراصل تو ہمارا دل ہی زندگی سے بجھ چکا ہے۔
2
कहते थे आफ़्ताब-ए-क़यामत जिसे सो वो
निकला चराग़-ए-दाग़-ए-दिल अपना बुझा हुआ
کہتے تھے آفتاب قیامت جسے سو وہ
نکلا چراغ داغ دل اپنا بجھا ہوا
جسے لوگ قیامت کا سورج کہتے تھے، وہ تو میرے دل کے داغ کا بجھا ہوا چراغ نکلا۔
3
चश्म-ए-ग़ज़ब से नीम-निगह मेरे वास्ते
एक ग़ुंचा है ज़हर में गोया बुझा हुआ
چشم غضب سے نیم نگہ میرے واسطے
ایک غنچہ ہے زہر میں گویا بجھا ہوا
غضب بھری آنکھوں سے میری طرف ڈالی گئی ایک نیم نگاہ گویا زہر میں بجھائی ہوئی ایک کلی ہے۔
4
फिर दिल में आह-ए-सर्द हुई मेरे शोला-ज़न
लो फिर भबक उठा ये फ़तीला बुझा हुआ
پھر دل میں آہ سرد ہوئی میرے شعلہ زن
لو پھر بھبک اُٹھا یہ فتیلا بجھا ہوا
پھر میرے دل میں ایک ٹھنڈی آہ اٹھی جو شعلہ بھڑکانے والی ہے؛ دیکھو، یہ بجھا ہوا فتیلا پھر سے بھبک اٹھا۔
5
पहले निशाना करता वो बंदूक़ का मुझे
पर था मिरे नसीब में तोड़ा बुझा हुआ
پہلے نشانہ کرتا وہ بندوق کا مجھے
پر تھا مرے نصیب میں توڑا بجھا ہوا
پہلے تو وہ اپنی بندوق سے مجھ پر نشانہ باندھتا، مگر میرے نصیب میں تو ٹوٹا بجھا ہوا چقماق ہی لکھا تھا۔
6
जलकर अगर बुझा भी दिल-ए-सोख़्ता मगर
तो फिर जलेगा जैसे कि कोयला बुझा हुआ
جلکر اگر بجھا بھی دل سوختہ مگر
تو پھر جلے گا جیسے کہ کوئلا بجھا ہوا
اگر یہ جلا ہوا دل جل کر بجھ بھی جائے، تو پھر بھی وہ دوبارہ سلگ اٹھے گا، جیسے بجھا ہوا کوئلہ دوبارہ دہک اٹھتا ہے۔
7
हम आप जल बुझे मगर इस दिल की आग को
सीने में हमने ज़ौक़ जो पाया बुझा हुआ
ہم آپ جل بجھے مگر اس دلکی آگ کو
سینے میں ہمنے ذوقؔ جو پایا بجھا ہوا
ہم خود جل کر بجھ گئے، مگر اس دل کی آگ کو اے ذوقؔ جب ہم نے اپنے سینے میں پایا تو وہ پہلے ہی بجھی ہوئی تھی۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
