پہلے نشانہ کرتا وہ بندوق کا مجھے — شیخ ابراہیم ذوق

پہلے نشانہ کرتا وہ بندوق کا مجھے پر تھا مرے نصیب میں توڑا بجھا ہوا

“First he would take aim at me with his gun, but in my fate was written only a broken, spent flint.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

پہلے تو وہ اپنی بندوق سے مجھ پر نشانہ باندھتا، مگر میرے نصیب میں تو ٹوٹا بجھا ہوا چقماق ہی لکھا تھا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر ایک پیاری سی شکایت کرتا ہے — وہ کم از کم بندوق تان کر مجھ پر نشانہ تو لگاتا، مگر میرے نصیب میں تو بس ٹوٹا بجھا ہوا توڑا (چقماق) لکھا تھا جو چنگاری تک نہ دے سکا۔ یعنی جب چوٹ کھانا اور مرنا بھی نصیب نہ ہو، تو سمجھو محبوب کی توجہ اور اُس کا غصہ بھی خوش نصیبوں ہی کو ملتا ہے۔ 'بجھا ہوا توڑا' بدنصیبی کا کتنا خوبصورت استعارہ ہے، جہاں زخم کھانے کی حسرت بھی ادھوری رہ جائے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.