کہتے تھے آفتاب قیامت جسے سو وہ — شیخ ابراہیم ذوق
“That which they called the blazing sun of Judgment Day— it turned out but the lamp of my heart's scar, burnt out and gone.”
معنی
جسے لوگ قیامت کا سورج کہتے تھے، وہ تو میرے دل کے داغ کا بجھا ہوا چراغ نکلا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر عظمت اور تباہی کو ایک ساتھ بیان کرتا ہے: جسے دنیا قیامت کا چمکتا سورج سمجھ رہی تھی — وہ ہولناک، پرشکوہ روشنی — وہ دراصل اُس کے اپنے دل کے داغ کا بجھا ہوا چراغ نکلا۔ یہ ایک حیرت انگیز مبالغہ ہے، گویا دل کے زخم کی چمک اتنی شدید تھی کہ کائنات اسے قیامت کا سورج سمجھ بیٹھی۔ مگر انجام میں دکھ ہے، کیونکہ اب وہ عظیم روشنی بھی بجھ چکی — دل کی آگ گل ہو گئی، صرف راکھ باقی رہی۔ یہاں عشق کا درد کائنات کی سب سے شاندار اور سب سے ویران شے دونوں بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
