ہم آپ جل بجھے مگر اس دلکی آگ کو — شیخ ابراہیم ذوق
“We ourselves burned out and were quenched, yet, as for this heart's fire, O Zauq, the moment I found it within my breast, it lay already extinguished.”
معنی
ہم خود جل کر بجھ گئے، مگر اس دل کی آگ کو اے ذوقؔ جب ہم نے اپنے سینے میں پایا تو وہ پہلے ہی بجھی ہوئی تھی۔
تشریح
ذوقؔ یہاں آگ اور اُس کے بجھنے کی تصویر سے ایک گہرا اور عجیب غم بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم تو خود جل جل کر بجھ گئے، مگر عجیب بات یہ کہ اِس دل کی آگ کو ہم نے سینے میں پہلے ہی سے بجھا ہوا پایا۔ اِس میں اُس عاشق کا دکھ ہے جس کا ہر جذبہ، ہر اُمنگ شروع ہونے سے پہلے ہی راکھ ہو چکی تھی، گویا زندگی آغاز سے پہلے ہی تمام ہو گئی۔ یہ مایوسی کی وہ انتہا ہے جہاں دل خود اپنی ہی آگ سے محروم رہ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
