پانی طبیب دے ہے ہمیں کیا بجھا ہوا — شیخ ابراہیم ذوق
“What water does the healer give us, already quenched and cold— It is the heart itself that's weary of this life, its embers gone.”
معنی
طبیب ہمیں کیسا بجھا ہوا پانی دیتا ہے؛ دراصل تو ہمارا دل ہی زندگی سے بجھ چکا ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر طبیب سے کہتا ہے کہ تم ہمیں جو پانی یا دوا دیتے ہو اس کا کیا فائدہ جب وہ پہلے ہی بجھا ہوا، ٹھنڈا اور بے جان ہے۔ اصل میں تو ہمارا دل ہی زندگی سے بجھ چکا ہے، اس کی آگ اور تڑپ راکھ ہو چکی ہے۔ 'بجھا ہوا' کی خوبصورتی یہ ہے کہ ایک طرف پیاس بجھانے کا ذکر ہے اور دوسری طرف دل کے بجھ جانے کا — جب جینے کی خواہش ہی سرد پڑ جائے تو کوئی علاج کام نہیں آتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
