غزل
تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی
تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی
یہ غزل شوخی، چھیڑ چھاڑ اور بے تکلفی سے بھرپور عاشقانہ جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر محبوب کے تئیں اپنے موروثی عشق کا دعویٰ کرتے ہوئے ظریفانہ انداز میں توجہ اور محبت کا طلب گار ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
तेरे भाई को चाहा अब तेरी करता हूँ पा-बोसी
मुझे सरताज कर रख जान में आशिक़ हूँ मौरूसी
تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی
مجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثی
پہلے میں نے تمہارے بھائی سے چاہت کی اور اب تمہارے قدم چومتا ہوں؛ اے جان، مجھے اپنا سرتاج بنا کر رکھو کیونکہ میں تمہارا موروثی عاشق ہوں۔
2
रफ़ू कर दे हैं ऐसा प्यार जो आशिक़ हैं यकसू सीं
फड़ा कर और सीं शाल अपनी कहता है मुझे तू सी
رفو کر دے ہیں ایسا پیار جو عاشق ہیں یکسو سیں
پھڑا کر اور سیں شال اپنی کہتا ہے مجھے تو سی
جو عاشق مخلص ہوتے ہیں وہ ایسی محبت جتاتے ہیں کہ اپنی شال کو دوسری جگہ سے جان بوجھ کر پھاڑ لاتے ہیں اور مجھ سے کہتے ہیں کہ اسے تم ہی رفو کرو۔
3
हुआ मख़्फ़ी मज़ा अब शाहिदी सीं शहद की ज़ाहिर
मगर ज़ंबूर ने शीरीनी उन होंटों की जा चूसी
ہوا مخفی مزا اب شاہدی سیں شہد کی ظاہر
مگر زنبور نے شیرینی ان ہونٹوں کی جا چوسی
شہد کا چھپا ہوا مزہ اب ثبوت کے ساتھ ظاہر ہو گیا ہے، لگتا ہے جیسے کسی بھڑ یا مکھی نے محبوب کے ان ہونٹوں کی مٹھاس جا کر چوس لی ہو۔
4
किसे ये ताब जो उस की तजल्ली में रहे ठहरा
रुमूज़-ए-तौर लाती है सजन तेरी कमर मू सी
کسے یہ تاب جو اس کی تجلی میں رہے ٹھہرا
رموز طور لاتی ہے سجن تیری کمر مو سی
کس میں یہ تاب و طاقت ہے جو اس کے جلوے کے سامنے ٹھہر سکے؟ اے محبوب، بال کی مانند پتلی تمہاری کمر کوہِ طور کے راز سامنے لاتی ہے۔
5
समाता नईं इज़ार अपने में अबतर देख रंग उस का
करे किम-ख़्वाब सो जाने की यूँ पाते हैं जासूसी
سماتا نئیں ازار اپنے میں ابتر دیکھ رنگ اس کا
کرے کمخواب سو جانے کی یوں پاتے ہیں جاسوسی
اس کی بگڑی ہوئی حالت دیکھ کر ازار اپنے آپ میں نہیں سماتی؛ اس طرح وہ کمخواب کی سو جانے کا بہانہ کر کے کی جانے والی جاسوسی پکڑ لیتے ہیں۔
6
ब-रंग-ए-शम्अ क्यूँ याक़ूब की आँखें नहीं रौशन
ज़माने में सुना यूसुफ़ का पैराहन था फ़ानूसी
برنگ شمع کیوں یعقوب کی آنکھیں نہیں روشن
زمانے میں سنا یوسف کا پیراہن تھا فانوسی
حضرت یعقوب کی آنکھیں شمع کی طرح روشن کیوں نہیں ہیں، حالانکہ دنیا میں یہ سنا تھا کہ حضرت یوسف کا کرتا فانوس کی طرح تھا۔
7
न छोड़ूँ उस लब-ए-इरफ़ाँ को 'नाजी' और लुटा दूँ सब
मिले गर मुझ को मुल्क-ए-ख़ुसरवी और ताज-ए-काऊसी
نہ چھوڑوں اس لب عرفاں کو ناجیؔ اور لٹا دوں سب
ملے گر مجھ کو ملک خسروی اور تاج کاؤسی
اے ناجی، اگر مجھے خسرو کی سلطنت اور کاؤس کا تاج بھی مل جائے، تب بھی میں سب کچھ قربان کر دوں گا مگر معرفت سے لبریز ان ہونٹوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
