برنگ شمع کیوں یعقوب کی آنکھیں نہیں روشن زمانے میں سنا یوسف کا پیراہن تھا فانوسی

“Why were Jacob's eyes not kindled bright as a candle's glow? / For Joseph's robe, the world had heard, was a lantern long ago.”

— شاکر ناجی
معنی

حضرت یعقوب کی آنکھیں شمع کی طرح روشن کیوں نہیں ہیں، حالانکہ دنیا میں یہ سنا تھا کہ حضرت یوسف کا کرتا فانوس کی طرح تھا۔

تشریح

اس شعر میں حضرت یعقوبؑ اور حضرت یوسفؑ کے مشہور واقعے کی تلمیح کو ایک اچھوتے اور نازک تخیل کے ساتھ باندھا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر یوسف کا پیراہن ایک روشن فانوس کی مانند تھا، تو پھر اس کے چھوتے ہی یعقوب کی آنکھیں شمع کی طرح جگمگا کیوں نہ اٹھیں۔ جدائی کے اندھیروں اور وصل کی روشنی کا یہ بیان عشق و محبت کی گہرائی کو دل میں اتار دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.