“I loved your brother once, and now I bow to kiss your feet; crown me the sovereign of your soul, an ancestral lover complete.”
پہلے میں نے تمہارے بھائی سے چاہت کی اور اب تمہارے قدم چومتا ہوں؛ اے جان، مجھے اپنا سرتاج بنا کر رکھو کیونکہ میں تمہارا موروثی عاشق ہوں۔
اس شعر میں بڑی ہی دلکش شوخی، چھیڑ چھاڑ اور بے باک انداز جھلکتا ہے۔ عاشق کمال کی ذہانت اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے کہ پہلے تمہارے بھائی سے الفت تھی اور اب تمہارے قدم چوم رہا ہوں، گویا تمہارے گھرانے کی چاہت میرا خاندانی ورثہ ہے۔ وہ محبوب سے خود کو سر کا تاج بنانے کی التجاء بھی بڑے شوخ انداز میں کرتا ہے، جس میں عقیدت کے ساتھ ساتھ ایک میٹھی سی ظرافت بھی رچی بسی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
