تیرے بھائی کو چاہا اب تیری کرتا ہوں پا بوسی مجھے سرتاج کر رکھ جان میں عاشق ہوں موروثی

“I loved your brother once, and now I bow to kiss your feet; crown me the sovereign of your soul, an ancestral lover complete.”

— شاکر ناجی
معنی

پہلے میں نے تمہارے بھائی سے چاہت کی اور اب تمہارے قدم چومتا ہوں؛ اے جان، مجھے اپنا سرتاج بنا کر رکھو کیونکہ میں تمہارا موروثی عاشق ہوں۔

تشریح

اس شعر میں بڑی ہی دلکش شوخی، چھیڑ چھاڑ اور بے باک انداز جھلکتا ہے۔ عاشق کمال کی ذہانت اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتا ہے کہ پہلے تمہارے بھائی سے الفت تھی اور اب تمہارے قدم چوم رہا ہوں، گویا تمہارے گھرانے کی چاہت میرا خاندانی ورثہ ہے۔ وہ محبوب سے خود کو سر کا تاج بنانے کی التجاء بھی بڑے شوخ انداز میں کرتا ہے، جس میں عقیدت کے ساتھ ساتھ ایک میٹھی سی ظرافت بھی رچی بسی ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.