نہ چھوڑوں اس لب عرفاں کو ناجیؔ اور لٹا دوں سب ملے گر مجھ کو ملک خسروی اور تاج کاؤسی

“I would not forsake those lips of gnosis, O Naji, and would squander all renown, even were I bestowed the realm of Khusrau and Kay Kavus's imperial crown.”

— شاکر ناجی
معنی

اے ناجی، اگر مجھے خسرو کی سلطنت اور کاؤس کا تاج بھی مل جائے، تب بھی میں سب کچھ قربان کر دوں گا مگر معرفت سے لبریز ان ہونٹوں کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔

تشریح

اس شعر میں شاکر ناجی دنیاوی جاہ و حشمت اور اقتدار پر سچی معرفت اور روحانی تعلق کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے خسرو پرویز کی عظیم سلطنت اور کیکاؤس کا شاہی تاج بھی مل جائے، تو میں سب کچھ لٹا دوں گا مگر اپنے محبوب یا مرشد کے لبِ عرفاں سے فیض پانا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ یہ شعر بتاتا ہے کہ دل کی بیداری اور حق کی طلب کے سامنے دنیا کے تمام تخت و تاج بے معنی ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.