غزل
کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی
کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی
یہ غزل روایتی تغزل، مبالغہ آرائی اور شوخی کے امتزاج سے محبوب کے نازک حسن اور عاشق کے سوز و گداز کو پیش کرتی ہے۔ شاعر نے محبوب کی موہوم کمر کے کلاسیکی مضمون اور اپنی چشمِ تر کو دریا کی مانند پیش کر کے وارفتگی اور ضبطِ غم کی موثر تصویر کشی کی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
1
कमर की बात सुनते हैं ये कुछ पाई नहीं जाती
कहे हैं बात ऐसी ख़याल में मेरे नहीं आती
کمر کی بات سنتے ہیں یہ کچھ پائی نہیں جاتی
کہے ہیں بات ایسی خیال میں میرے نہیں آتی
ہم محبوب کی کمر کا ذکر تو سنتے ہیں مگر وہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ لوگ ایسی بات کہتے ہیں جو میرے خیال اور سمجھ میں ہی نہیں آتی۔
2
जो चाहो सैर-ए-दरिया वक़्फ़ है मुझ चश्म की कश्ती
हर एक मू-ए-पलक मेरा है गोया घाट ख़ैराती
جو چاہو سیر دریا وقف ہے مجھ چشم کی کشتی
ہر ایک موئے پلک میرا ہے گویا گھاٹ خیراتی
اگر تم دریا کی سیر کرنا چاہتے ہو تو میری آنکھ کی کشتی تمہارے لیے وقف ہے، اور میری پلکوں کا ہر ایک بال گویا ایک خیراتی گھاٹ ہے۔
3
ब-रंग उस के नहीं महबूब दिल रोने को आशिक़ के
सआदत ख़ाँ है लड़का वज़्अ कर लेता है बरसाती
برنگ اس کے نہیں محبوب دل رونے کو عاشق کے
سعادت خاں ہے لڑکا وضع کر لیتا ہے برساتی
اس کی طرح محبوب کا دل عاشق کے رونے پر نہیں پسیجتا؛ سعادت خاں ابھی لڑکا ہی ہے، پھر بھی وہ بارش سے بچنے کے لیے برساتی اوڑھ لیتا ہے۔
4
जो कोई असली है ठंडा गर्म याक़ूती में क्यूँकर हो
न लावे ताब तेरे लब की जो नामर्द है ज़ाती
جو کوئی اصلی ہے ٹھنڈا گرم یاقوتی میں کیونکر ہو
نہ لاوے تاب تیرے لب کی جو نامرد ہے ذاتی
جو شخص پیدائشی طور پر ہی سرد مزاج ہو، وہ یاقوتی جیسی مقوی دوا سے بھی کیسے گرم ہو سکتا ہے؟ اسی طرح جو شخص ذاتی طور پر نامرد ہو وہی تمہارے ہونٹوں کی تپش برداشت نہیں کر سکتا۔
5
न देखा बाग़ में नर्गिस नीं तुझ कूँ शर्म जाने सीं
इसी ग़म में हुई है सर-निगूँ वो वक़्त नहीं पाती
نہ دیکھا باغ میں نرگس نیں تجھ کوں شرم جانے سیں
اسی غم میں ہوئی ہے سرنگوں وہ وقت نہیں پاتی
باغ میں نرگس کے پھول نے شرم کے مارے تمہیں نہیں دیکھا۔ اب اسی غم میں اس کا سر جھکا ہوا ہے، مگر وہ اس گزرے ہوئے وقت کو دوبارہ واپس نہیں پا سکتی۔
6
कहाँ मुमकिन है 'नाजी' सा कि तक़्वा और सलाह आवे
निगाह-ए-मस्त-ए-ख़ूबाँ वो नहीं लेता ख़राबाती
کہاں ممکن ہے ناجیؔ سا کہ تقویٰ اور صلاح آوے
نگاہ مست خوباں وہ نہیں لیتا خراباتی
ناجی جیسے شخص کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں پرہیزگاری اور نیکی آئے، کیونکہ وہ خراباتی حسینوں کی مست نگاہوں سے نظر ہٹا ہی نہیں سکتا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
