“How could piety and virtue ever visit one like Naji? That tavern-dweller can never turn from the intoxicating gaze of the fair.”
ناجی جیسے شخص کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ اس میں پرہیزگاری اور نیکی آئے، کیونکہ وہ خراباتی حسینوں کی مست نگاہوں سے نظر ہٹا ہی نہیں سکتا۔
ناجیؔ یہاں بڑی سادگی اور شوخی سے اپنی رندانہ کیفیت بیان کر رہے ہیں کہ اُن جیسا شخص پرہیزگاری اور تقویٰ کے راستے پر کیسے چل سکتا ہے۔ جب دل خوبصورت چہروں کی مخمور نگاہوں کے سحر میں ڈوب چکا ہو، تو وہ بھلا نیکی اور پارسائی کی طرف کیسے پلٹے۔ یہ دراصل عشق کے نشے میں خود کو خوشی خوشی گنوا دینے اور اپنی وارفتگی کو مسکرا کر تسلیم کرنے کا ایک دلکش انداز ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
