“How can a ruby elixir warm one who is by nature cold? / Only the truly unmanly fail to bear the burning passion of your lips.”
جو شخص پیدائشی طور پر ہی سرد مزاج ہو، وہ یاقوتی جیسی مقوی دوا سے بھی کیسے گرم ہو سکتا ہے؟ اسی طرح جو شخص ذاتی طور پر نامرد ہو وہی تمہارے ہونٹوں کی تپش برداشت نہیں کر سکتا۔
اس شعر میں شاعر محبوب کے لبوں کی حدت اور سرخی کو روایتی مقوی دوا ’یاقوتی‘ کے استعارے سے جوڑ رہے ہیں۔ یاقوتی کو دل اور جسم میں گرمی اور قوت پیدا کرنے والا مانا جاتا تھا، مگر شاعر کا کہنا ہے کہ جس کی سرشت ہی سرد اور بے جان ہو، اسے یہ مقوی شربت بھی کیا گرما سکے گا۔ محبوب کے لب اتنے پرجوش اور تپتے ہوئے ہیں کہ ان کی تپش برداشت کرنا ہر کمزور دل کے بس کی بات نہیں؛ عشق کی اس آگ کو جھیلنے کے لیے اندرون میں سچی جرات اور حرارت درکار ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
