“The beloved's heart melts not like his at the lover's weeping; young Saadat Khan is just a boy, yet readily dons a cloak against the rain.”
اس کی طرح محبوب کا دل عاشق کے رونے پر نہیں پسیجتا؛ سعادت خاں ابھی لڑکا ہی ہے، پھر بھی وہ بارش سے بچنے کے لیے برساتی اوڑھ لیتا ہے۔
اس شعر میں عاشق کے آنسوؤں کو برسات سے تشبیہ دے کر محبوب کی بے حسی پر ایک شوخ اور چبھتا ہوا طنز کیا گیا ہے۔ عاشق کا رونا تو اس لیے تھا کہ محبوب کا دل پسیج جائے، مگر محبوب پر ان آنسوؤں کا ذرا بھی اثر نہیں ہوتا، جیسے اس نے خود کو بھیگنے سے بچانے کے لیے برساتی اوڑھ رکھی ہو۔ یہ شعر روزمرہ کی ایک عام تصویر کے ذریعے بے رخی اور سنگ دلی کے دکھ کو بڑی شگفتگی سے بیان کرتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
