“If you wish to sail the river, the boat of my eye is pledged and free; each lash upon my eyelid stands as a charitable quay.”
اگر تم دریا کی سیر کرنا چاہتے ہو تو میری آنکھ کی کشتی تمہارے لیے وقف ہے، اور میری پلکوں کا ہر ایک بال گویا ایک خیراتی گھاٹ ہے۔
شاعر نے اس شعر میں اپنے جذبۂ عشق اور اشک باری کو ایک دلکش تمثیل میں ڈھالا ہے۔ وہ محبوب سے کہتا ہے کہ اگر تمہیں دریا کی سیر کا شوق ہے تو میرے آنسوؤں کا دریا حاضر ہے اور میری آنکھ ایک کشتی کی مانند تمہارے لیے وقف ہے۔ میری پلکوں کا ہر بال دراصل دریا کا وہ خیراتی گھاٹ ہے جہاں تم بلا جھجھک قدم رکھ سکتے ہو؛ یعنی عاشق کا سارا وجود اور اس کے غم صرف اور صرف محبوب کے لیے وقف ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
