غزل

جسکی قسمت میں کرے پیر کا دیدار خدا

جسکی قسمت میں کرے پیر کا دیدار خدا

یہ صوفیانہ غزل پیر و مرشد کے دیدار کی عظمت اور اس پر ہونے والی عنایتِ الٰہی کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ مرشد کی دید پانے والا غیر کی طرف نظر نہیں کرتا، جبکہ خود پسندی اور انا کے قیدی کے لیے سچی عقیدت اور روحانی فیض کا راستہ مسدود رہتا ہے۔

Source: Divan-e-Turab · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
जिसकी क़िस्मत में करे पीर का दीदार ख़ुदा उसको दिखलाए न फिर और का मुँह यार ख़ुदा
جسکی قسمت میں کرے پیر کا دیدار خدا اوسکو دکھلائے نہ پھر اور کا منھ یار خدا
جس کی قسمت میں خدا اپنے پیر کا دیدار لکھ دے، اے دوست، پھر خدا اسے کسی اور کا چہرہ نہ دکھائے۔
2
उस बेचारे से भला पीर-परस्ती क्या हो ख़ुद-परस्ती में करे जिसको गिरफ़्तार ख़ुदा
اوس بچارے سے بھلا پیر پرستی کیا ہو خود پرستی میں کرے جسکو گرفتار خدا
وہ بے چارہ بھلا کسی پیر کی کیا پیروی کرے گا جسے خود خدا نے خود پسندی اور انا میں گرفتار کر رکھا ہو۔
3
नेक बद ख़ुर्द बुज़ुर्गों ने नहीं जिसको फ़र्क़ ऐसे अहमक़ से न ही हमको सरोकार ख़ुदा
نیک بد خرد بزرگونے نہیں جسکو فرق ایسے احمق سے نہ ہی ہمکو سروکار خدا
جس شخص کو اچھے اور برے نیز چھوٹے اور بڑے کے درمیان کوئی تمیز نہیں، اے خدا، ہمیں ایسے بے وقوف سے کوئی واسطہ نہیں رکھنا۔
4
हर किसीको नहीं मिलती है ख़ज़ाने की कलीद खोलता ही नहीं कम-ज़र्फ़ पे असरार ख़ुदा
ہر کسیکو نہیں ملتی ہے خزانے کی کلید کھولتا ہی نہیں کم ظرف پہ اسرار خدا
ہر شخص کو خزانے کی چابی نہیں ملتی، کیونکہ خدا کم ظرف انسان پر اپنے راز ظاہر نہیں کرتا۔
5
है ख़ुदा वालोंको इक मजमा में उज़लत-केश दोस्त को अपने तो देता नहीं आज़ार ख़ुदा
ہے خدا والونکو اک مجمع میں عزلت کیش دوست کو اپنے تو دیتا نہیں آزار خدا
خدا اپنے چاہنے والوں کو بھیڑ میں بھی تنہائی پسند بنا دیتا ہے، کیونکہ خدا اپنے دوست کو کبھی دکھ اور تکلیف نہیں دیتا۔
6
सेहत-ए-क़ल्ब तो आसान नहीं मुश्किल है बहुत आह दिल हो न किसी शख़्स का बीमार ख़ुदा
صحت قلب تو آسان نہیں مشکل ہے بہت آہ دل ہو نہ کسی شخص کا بیمار خدا
دل کی صحت بحال ہونا آسان نہیں بلکہ بہت مشکل ہے؛ اے خدا، کسی بھی شخص کا دل کبھی بیمار نہ ہو۔
7
ऐसे ताले के पकड़े न क़दम कोई क्यूँकर हाथ से जिसके करे नाद-ए-अली पार ख़ुदा
ایسے طالع کے پکڑے نہ قدم کوئی کیونکر ہاتھ سے جسکے کرے نادِ علی پار خدا
کوئی ایسی خوش قسمتی کے قدم کیوں نہ پکڑے جس کے ہاتھ کے ذریعے خدا نادِ علی کی برکت سے بیڑا پار کر دیتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.