“He keeps the godly in seclusion, even amidst the crowd; for God would surely never bring torment upon His friend.”
خدا اپنے چاہنے والوں کو بھیڑ میں بھی تنہائی پسند بنا دیتا ہے، کیونکہ خدا اپنے دوست کو کبھی دکھ اور تکلیف نہیں دیتا۔
یہ شعر تصوف کی ایک دلنشیں کیفیت ’خلوت در انجمن‘ کو بیان کرتا ہے، یعنی ہجوم کے اندر رہ کر بھی اپنے باطن میں فقط خدا کی یاد میں گم رہنا۔ شاعر کا خیال ہے کہ جو لوگ خدا کے سچے دوست ہوتے ہیں، ربِ کریم انہیں دنیا کے ہنگاموں اور فتنوں سے بچانے کے لیے بھیڑ کے بیچ بھی باطنی تنہائی کی نعمت بخشتا ہے۔ یہ عزلت کوئی سزا نہیں بلکہ محبت کی علامت ہے، کیونکہ خدا اپنے دوستوں کو دنیاوی جھمیلوں اور دکھ درد کی اذیت میں مبتلا نہیں دیکھنا چاہتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
