“He whose fate God graces with the vision of the Master, / May God, O friend, never let him look upon the face of another.”
جس کی قسمت میں خدا اپنے پیر کا دیدار لکھ دے، اے دوست، پھر خدا اسے کسی اور کا چہرہ نہ دکھائے۔
اس شعر میں مرشدِ کامل کے دیدار کی روحانی لذت اور صوفیانہ عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ جس کی قسمت میں خدا اپنے پیر کا دیدار لکھ دے، اس کی نگاہ پھر دنیا کے کسی اور چہرے کی طرف نہ اٹھے۔ مرشد کا چہرہ دراصل حق کی تجلی بن جاتا ہے، جسے دیکھ لینے کے بعد دل کو کسی دوسرے رخ یا دنیاوی سہارے کی حاجت نہیں رہتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
