“Not everyone is granted the key to the treasure's grace; God never reveals His sacred mysteries to the shallow and the base.”
ہر شخص کو خزانے کی چابی نہیں ملتی، کیونکہ خدا کم ظرف انسان پر اپنے راز ظاہر نہیں کرتا۔
یہاں 'خزانے کی کلید' سے مراد معرفت اور روحانی سچائیوں کا وہ ادراک ہے جو انسان کو بصیرت عطا کرتا ہے۔ شاعر بڑی خوبصورتی سے سمجھاتے ہیں کہ خدا اپنے اسرار ہر کسی پر عیاں نہیں کرتا، بلکہ اس کے لیے دل کی کشادگی اور بڑا ظرف درکار ہوتا ہے۔ کم ظرف اور تنگ دل انسان ان الٰہی رازوں کی عظمت اور بار کو سنبھالنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
