“Why would anyone not fall at the feet of such blessed fate, through whose hand God grants deliverance by the call to Ali?”
کوئی ایسی خوش قسمتی کے قدم کیوں نہ پکڑے جس کے ہاتھ کے ذریعے خدا نادِ علی کی برکت سے بیڑا پار کر دیتا ہے۔
شاعر یہاں ایک ایسے بلند بخت انسان کی بات کر رہا ہے جس کا وجود خود ربِ کائنات کی رحمت اور مدد کا ذریعہ بن جائے۔ 'نادِ علی' مشکلات سے نجات اور غیبی مدد کی دعا ہے، اور شاعر کہتا ہے کہ جس کے وسیلے سے خدا بندوں کے کام سنوار دے اور بیڑے پار لگا دے، بھلا اس کے مقدر کے آگے کوئی کیوں نہ سر جھکائے! یہ شعر دراصل روحانی فیض اور بخت کی بلندی کا ایک پُراثر اور والہانہ اعتراف ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
