غزل

گر کون و مکاں مظہر نیرنگ نہ ہوتا

گر کون و مکاں مظہر نیرنگ نہ ہوتا

یہ غزل کائنات کو الٰہی جلوہ گری، نیرنگی اور مسلسل تغیر کے مظہر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ وجود اور کائنات کے اس حیرت انگیز تماشے کے مشاہدے میں شاعر خود کو ہمہ وقت غرقِ تحیر، دنگ اور دلی طور پر مسحور پاتا ہے۔

Source: Divan-e-Niyaz (Lucknow, 1960 reprint) · UR

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
گر کون و مکاں مظہر نیرنگ نہ ہوتا ہر آن میں اُس کا یہ نیا ڈھنگ نہ ہوتا
اگر یہ کائنات رنگ برنگے عجائبات کا مظہر نہ ہوتی، تو ہر لمحہ خدا کا یہ نیا انداز اور روپ دکھائی نہ دیتا۔
2
ہوتا نہ اگر اس کے تماشے میں تحیّر حیرت سے میں آئینہ نمط دنگ نہ ہوتا
اگر محبوب کے جلوے کے نظارے میں اس قدر حیرت نہ ہوتی، تو میں حیرانی سے آئینے کی طرح ششدر اور ساکت نہ رہ جاتا۔
3
گر شان پیمبر کی، بوجہل پہ کھلتی اسلام کے لانے میں اُسے ننگ نہ ہوتا
اگر ابو جہل پر پیغمبر کی سچی عظمت اور شان ظاہر ہو جاتی، تو اسے اسلام قبول کرنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہ ہوتی۔
4
اسرارِ حقیقت کے خبردار جو ہوتے ہفتاد و دو ملّت میں کبھی جنگ نہ ہوتا
اگر لوگ حقیقت کے بھیدوں سے باخبر ہوتے تو بہتر فرقوں کے درمیان کبھی کوئی جنگ نہ ہوتی۔
5
امکان سے باہر ہے تری کُنہ کا پا یہ ورنہ دلِ آگاہ مرا تنگ نہ ہوتا
آپ کی حقیقت اور اصل ماہیت تک پہنچنا امکان سے باہر ہے، ورنہ میرا باشعور اور باخبر دل اس طرح تنگ اور بے چین نہ ہوتا۔
6
گر پردۂ غفلت کو تو ہم سے نہ اُٹھاتا اے عشق نیازؔ آگے ترے سنگ نہ ہوتا
اے عشق! اگر تو ہم سے غفلت کا پردہ نہ اٹھاتا، تو نیاز تیرے آگے یوں پتھر نہ بنتا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.