“Had they but known the hidden mysteries of Truth, between the seventy-two sects there would never be war.”
اگر لوگ حقیقت کے بھیدوں سے باخبر ہوتے تو بہتر فرقوں کے درمیان کبھی کوئی جنگ نہ ہوتی۔
اس پُراثر شعر میں شاعر نے مذہبی اور فکری جھگڑوں کی بنیادی وجہ پر بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے۔ 'ہفتاد و دو ملت' سے مراد وہ بہتر فرقے ہیں جو اپنی اپنی انا اور کم فہمی کی بنا پر آپس میں دست و گریباں رہتے ہیں۔ شاعر کا ماننا ہے کہ یہ ساری تفریق دراصل حقیقتِ مطلق سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، اگر انسان کو اصل سچائی کا ادراک ہو جائے تو تعصب اور عداوت ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
