“Had the Prophet’s true glory to Abu Jahl been revealed, he would have felt no shame in embracing Islam.”
اگر ابو جہل پر پیغمبر کی سچی عظمت اور شان ظاہر ہو جاتی، تو اسے اسلام قبول کرنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہ ہوتی۔
یہ شعر انسان کی انا اور باطنی بصیرت سے محرومی پر ایک خوبصورت تبصرہ ہے۔ ابو جہل کا شمار حضور پاک کی شدید مخالفت کرنے والوں میں صرف اس لیے تھا کہ اس کی آنکھوں پر جھوٹی چودھراہٹ اور تکبر کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ شاعر بڑی سادگی سے کہتے ہیں کہ اگر اس پر سرورِ کونین کی حقیقی عظمت اور روحانی شان واضح ہو جاتی، تو اس کی جھوٹی انا دم توڑ دیتی اور وہ حق کو گلے لگانے میں کبھی عار محسوس نہ کرتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
