گر کون و مکاں مظہر نیرنگ نہ ہوتا ہر آن میں اُس کا یہ نیا ڈھنگ نہ ہوتا

“Were the cosmos not a canvas of wondrous illusion, each fleeting moment would not unveil His ever-new expression.”

— شاہ نیاز احمد بریلوی
معنی

اگر یہ کائنات رنگ برنگے عجائبات کا مظہر نہ ہوتی، تو ہر لمحہ خدا کا یہ نیا انداز اور روپ دکھائی نہ دیتا۔

تشریح

یہ شعر کائنات کو قدرت کے لامتناہی رنگوں اور جلووں کی ایک زندہ تصویر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر یہ سارا جہان خدا کے حیرت انگیز کمالات اور نیرنگیوں کا آئینہ نہ ہوتا، تو ہمیں ہر لمحہ اس کے حسن کا ایک انوکھا اور نیا انداز دیکھنے کو نہ ملتا۔ دراصل یہ زندگی کے ہر پل میں چھپی رب کی تخلیقی خوبصورتی اور اس کے نت نئے جلووں کا ایک پُراثر اور خوبصورت اعتراف ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.