“To fathom Your true essence lies beyond the realm of possibility; / else this knowing heart of mine would never be so sorely distressed.”
آپ کی حقیقت اور اصل ماہیت تک پہنچنا امکان سے باہر ہے، ورنہ میرا باشعور اور باخبر دل اس طرح تنگ اور بے چین نہ ہوتا۔
شاعر یہاں ایک نازک روحانی کشمکش بیان کر رہے ہیں کہ ذاتِ حق یا محبوب کی اصل حقیقت کو مکمل جان لینا انسانی دائرے سے ہی باہر ہے۔ المیہ یہ ہے کہ اگر دل بے خبر اور نادان ہوتا تو پرسکون رہتا؛ یہ تو اس کا بیدار اور باخبر ہونا ہے جو اس بے پایاں وسعت کے آگے خود کو عاجز اور تنگ محسوس کرتا ہے۔ حقیقت کا عرفان جتنا گہرا ہوتا ہے، اس کے نہ ملنے کی تڑپ بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
