“Had you not lifted from our eyes the veil of heedlessness, / O Love, supplication would never have struck against a stone.”
اے عشق! اگر تو ہم سے غفلت کا پردہ نہ اٹھاتا، تو نیاز تیرے آگے یوں پتھر نہ بنتا۔
شاعر عشق سے ایک دلنشیں شکوہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تُو نے ہماری آنکھوں سے غفلت اور بے خبری کا پردہ نہ اٹھایا ہوتا، تو ہم اس عذاب میں مبتلا نہ ہوتے۔ عشق نے ہمیں خوابِ غفلت سے جگا تو دیا، مگر اس بیداری کا انجام یہ ہوا کہ ہمیں کسی سنگ دل محبوب یا بے حس پتھر کے آگے سر جھکانا پڑا۔ یہاں لفظِ 'نیاز' شاعر کا تخلص بھی ہے اور عاجزانہ التجا بھی—گویا عشق کی دی ہوئی آگہی نے دل کو تڑپنے کے لیے ایک سنگین آزمائش میں ڈال دیا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
