غزل

نہ سُرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی

نہ سُرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی
نظیر اکبرآبادی· Ghazal· 8 shers

Source: Kulliyaat-e-Nazeer Akbarabadi (1922) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
न सुर्ख़ी ग़ुन्चा-ए-गुल में तिरे दहन की सी न यासमन में सफ़ाई तिरे बदन की सी
نہ سُرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی نہ یاسمن میں صفائی ترے بدن کی سی
نہ تو پھول کی کلی میں تیرے مُنہ جیسی سُرخی ہے اور نہ ہی چمیلی میں تیرے بدن جیسی صفائی اور نکھار ہے۔
2
मैं क्यूँ न फूलूँ कि उस गुल-बदन के आने से बहार आज मिरे घर में हो चमन की सी
میں کیوں نہ پھولوں کہ اُس گلبدن کے آنے سے بہار آج مرے گھر میں ہو چمن کی سی
میں کیوں نہ کھِل اُٹھوں، کہ اُس پھول جیسے بدن والے کے آنے سے آج میرے گھر میں باغ جیسی بہار آ گئی ہے۔
3
ये बर्क़ अब्र में देखे से याद आती है झलक किसी के दुपट्टे में नवरतन की सी
یہ برق ابر میں دیکھے سے یاد آتی ہے جھلک کسی کے ڈوپٹے میں نورتن کی سی
بادل میں اس بجلی کو دیکھنے سے وہ جھلک یاد آ جاتی ہے، جو کسی کے ڈوپٹے میں نو رتنوں کی چمک جیسی تھی۔
4
गुलू के रंग को क्या देखते हो ऐ ख़ूबाँ ये रंगतें हैं तुम्हारे ही पैरहन की सी
گلو کے رنگ کو کیا دیکھتے ہو ایخوبان یہ رنگتیں ہیں تمھارے ہی پیرہن کی سی
اے خوبان، پھول کے رنگ کو کیا دیکھتے ہو؟ یہ رنگتیں تو تمھارے ہی پیرہن کی سی ہیں۔
5
जो दिल था वस्ल में आबाद तेरे हिज्र में आह बनी हो शक्ल अब उसकी उजाड़ बन की सी
جو دل تھا وصل میں آباد تیرے ہجر میں آہ بنی ہو شکل اب اُسکی اجاڑ بن کی سی
جو دل تیرے وصال میں آباد اور بھرا پورا تھا، ہائے، تیری جدائی میں اب اُس کی حالت ایک اُجڑے ہوئے ویران جنگل جیسی ہو گئی ہے۔
6
तू अपने तन को न दे नस्तरन से अब तश्बीह भला तू देख ये नर्मी हो तेरे तन की सी
تو اپنے تن کو نہ دے نسترن سے اب تشبیہ بھلا تو دیکھ یہ نرمی ہو تیرے تن کی سی
اپنے بدن کو اب نسترن کے پھول سے تشبیہ مت دو۔ ذرا دیکھو، کیا اس کی نرمی کبھی تمہارے تن کی نرمی جیسی ہو سکتی ہے؟
7
तिरा जो पाँव का तलवा हो नर्म मख़मल सा सफ़ाई इसमें हो कैसे तो नस्तरन की सी
ترا جو پائوں کا تلوا ہو نرم مخمل سا صفائی اسمیں ہو کیسے تو نسترن کی سی
تمہارے پاؤں کا تلوا مخمل سا نرم ہے، تو پھر اس کی صفائی اور نزاکت نسترن (جنگلی سفید گلاب) جیسی ہی تو ہوگی۔
8
नज़ीर एक ग़ज़ल इस ज़मीन में और भी लिख कि अब तो कम हो रवानी तिरे सुख़न की सी
نظیرؔ ایک غزل اس زمین میں اور بھی لکھ کہ اب تو کم ہو روانی ترے سخن کی سی
اے نظیرؔ، اسی زمین میں ایک اور غزل لکھ، تاکہ اب تیرے کلام جیسی روانی کچھ کم ہو جائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.