جو دل تھا وصل میں آباد تیرے ہجر میں آہ — نظیر اکبرآبادی

جو دل تھا وصل میں آباد تیرے ہجر میں آہ بنی ہو شکل اب اُسکی اجاڑ بن کی سی

“The heart that flourished in our union's bloom—alas, in parting from you, Its shape has now become a wasted, desolate wilderness.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

جو دل تیرے وصال میں آباد اور بھرا پورا تھا، ہائے، تیری جدائی میں اب اُس کی حالت ایک اُجڑے ہوئے ویران جنگل جیسی ہو گئی ہے۔

تشریح

شاعر یہاں دل کو ایک آباد بستی کی مانند دکھا رہا ہے۔ وصل کے دنوں میں یہی دل ہرا بھرا، گلزار اور رونق سے لبریز تھا، مگر ہجر آتے ہی وہی دل کسی اجڑے ہوئے جنگل کی طرح ویران ہو گیا۔ یہ منظر ہمیں سمجھاتا ہے کہ محبت کا ساتھ زندگی کو بساتا ہے اور اُس کا بچھڑنا اندر کا سب کچھ اُجاڑ دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.