نظیرؔ ایک غزل اس زمین میں اور بھی لکھ — نظیر اکبرآبادی

نظیرؔ ایک غزل اس زمین میں اور بھی لکھ کہ اب تو کم ہو روانی ترے سخن کی سی

“Nazeer, write one more ghazal in this same ground, for now the flowing grace of your own verse grows scarce around.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

اے نظیرؔ، اسی زمین میں ایک اور غزل لکھ، تاکہ اب تیرے کلام جیسی روانی کچھ کم ہو جائے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے ہی نام نظیرؔ کو پکار کر خود سے مخاطب ہے، اور خود کو اسی زمین میں ایک اور غزل لکھنے کی ترغیب دیتا ہے — 'زمین' سے مراد وہی بحر اور قافیے کا سانچہ ہے۔ ان مصرعوں میں ایک پیاری سی عاجزی بھی ہے اور خود کو للکار بھی، کہ اب تیرے کلام کی وہ روانی، وہ بہاؤ کچھ کم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ اُس سچے فنکار کا اپنے آپ سے دیانت دار مکالمہ ہے جو اپنے فن کو مسلسل نکھارنا اور اپنی کھوئی ہوئی روانی پھر سے پانا چاہتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.