نہ سُرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی — نظیر اکبرآبادی

نہ سُرخی غنچۂ گل میں ترے دہن کی سی نہ یاسمن میں صفائی ترے بدن کی سی

“No rose's budding redness matches your mouth's crimson hue, Nor has the jasmine's purity the radiance your body knew.”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

نہ تو پھول کی کلی میں تیرے مُنہ جیسی سُرخی ہے اور نہ ہی چمیلی میں تیرے بدن جیسی صفائی اور نکھار ہے۔

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کے حسن کو پھولوں کے مقابل رکھتا ہے اور ہر بار پھول ہی ماند پڑ جاتے ہیں۔ گلاب کی کلی کی سرخی بھی اُن لبوں کی گہری لالی کو نہیں چھو پاتی، اور چمیلی کی وہ مشہور صفائی بھی محبوب کے بدن کی بے داغ تابانی کے سامنے پھیکی ہے۔ پھولوں کو، جو حسن کی علامت ہیں، ناکافی ٹھہرا کر شاعر محبوب کے بے مثال حسن کا اعتراف کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.