میں کیوں نہ پھولوں کہ اُس گلبدن کے آنے سے — نظیر اکبرآبادی

میں کیوں نہ پھولوں کہ اُس گلبدن کے آنے سے بہار آج مرے گھر میں ہو چمن کی سی

“Why should I not blossom, for by that rose-bodied one's coming, Spring today has filled my house as though it were a garden?”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

میں کیوں نہ کھِل اُٹھوں، کہ اُس پھول جیسے بدن والے کے آنے سے آج میرے گھر میں باغ جیسی بہار آ گئی ہے۔

تشریح

شاعر اپنے محبوب کو 'گل بدن' کہتا ہے، یعنی جس کا جسم پھول جیسا نازک ہو، اور اُس کے آنے سے گھر میں بہار اور چمن کی سی رونق چھا جاتی ہے۔ وہ پیار بھرے انداز میں پوچھتا ہے کہ جب میرا گھر خود گلستان بن گیا ہے تو میں پھول کی طرح کیوں نہ کھلوں؟ یہاں 'پھولنا' کے دو معنی ہیں — خوشی سے باغ باغ ہونا اور پھول کی طرح کھلنا — اور یہی اِس شعر کی لطافت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.