تو اپنے تن کو نہ دے نسترن سے اب تشبیہ — نظیر اکبرآبادی

تو اپنے تن کو نہ دے نسترن سے اب تشبیہ بھلا تو دیکھ یہ نرمی ہو تیرے تن کی سی

“No longer liken your soft body to the sword-lily's bloom Just see—can its tenderness ever match the softness of your frame?”

— نظیر اکبرآبادی

معنی

اپنے بدن کو اب نسترن کے پھول سے تشبیہ مت دو۔ ذرا دیکھو، کیا اس کی نرمی کبھی تمہارے تن کی نرمی جیسی ہو سکتی ہے؟

تشریح

اس شعر میں شاعر اپنے محبوب کے بدن کی نزاکت کو فطرت کی سب سے نرم چیز سے بھی بلند بتا رہا ہے۔ نسترن یعنی جنگلی گلاب نرمی کی علامت ہے، مگر شاعر کہتا ہے کہ اب تو اپنے تن کو اُس سے تشبیہ نہ دے، کیونکہ وہ پھول بھی تیری اِس نرمی کے سامنے کہاں ٹھہرتا ہے۔ خوبصورتی اِس اُلٹ پھیر میں ہے کہ جو چیز دنیا میں نزاکت کی مثال ہے، وہ خود محبوب کے آگے شرمندہ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.